- حاصل زیست اشک باری ہے
- میں قطرے میں ہوں دریا
- غزل کیا ہے فقط اشکوں کی مالا
- ان سے ہو روز ملاقات ضروری تو نہیں
- میں کیا ہوں معلوم نہیں
- مزدور کا لیڈر بھی ہو مزدور تو ہے بات
- بے نام داستان ہے ارمانِ زندگی
- بڑا گھمنڈ ، تفاخر ، غرور اور تمکین
- آرزو اتنی ہے جانِ آرزو
- ہر ذرہ ہے اک وسعت دریا میرے آگے
- ایک وجہ قرار باقی ہے
- میں کیا ہوں معلوم نہیں : واصف علی واصف
- خود جھومو خود گاتا جائوں
- جو سنا تھا سنا دیا میں نے
- کیا ملے واصف کی مستی کا سراغ
- تری شان بوترابی،میرا ذوق خاکبازی
- ایہہ بن سَن موتی انمول
- میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیِ رندانہ
- دھرتی نوں اسمان بناوے عشق دی ایہہ تاثیر
- بدلے ہوئے حالات سے ڈر جاتا ہوں اکثر
- ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت